
پرامن دنیا، کامیاب آخرت
امتِ واحدہ
ایک امت، ایک انسانیت
فرد سے قوم تک
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً
ابتدا میں سب انسان ایک ہی امت تھے اور ان کے درمیان مثالی اتحاد و محبت قائم تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نفرتوں، فاصلوں اور تعصبات نے جنم لیا۔ آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان ہی انسان کا دشمن بن چکا ہے۔
چند بنیادی سوال
سوال جو ہم سب کو خود سے کرنے ہیں
یقیناً بن سکتا ہے! لیکن اس کے لیے دنیا کو ایک بالکل نئے اور اچھوتے زاویے سے سوچنا ہوگا — اور یہی امتِ واحدہ کا واحد ایک نکاتی ایجنڈا ہے:
مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ ہو جائیں۔
ایک نکاتی ایجنڈا
اپنے شر سے دوسروں کو محفوظ کر دینا
انسان کے اندر خیر اور شر دونوں صلاحیتیں موجود ہیں۔ اگر دنیا نے ٹھیک ہونا ہے، تو اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہر انسان کی تربیت ایسی ہو کہ وہ اپنے شر پر کنٹرول کرنا سیکھ لے۔
بجائے اس کے کہ لوگ دوسروں کے شر سے بچتے پھریں اور پھر بھی کسی نہ کسی ظلم کا شکار ہو جائیں، اگر ہر فرد اپنے شر کو قابو کر لے تو پوری کائنات خود بخود محفوظ ہو جائے گی۔ انسان چاہے کسی کا بھلا نہ بھی کرے، لیکن اگر وہ صرف اپنے شر کو روک لے اور دنیا اس کے نقصان سے محفوظ ہو جائے، تو زمین پر امن ہی امن قائم ہو جائے گا۔
یہی اتحاد اور انسانیت کا وہ انتہائی آسان، مخلصانہ اور بالکل مفت حل ہے جو دنیا کو پرامن اور آخرت کو کامیاب بنا سکتا ہے۔
جیسا کہ علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا:
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
آئیے، ہمارے ساتھ جڑیں!
صحت، خوشحالی، معاشرتی اتحاد اور بہبود کے اس عظیم سفر میں ہمارا ساتھ دیں۔ اپنے شر پر قابو پا کر دوسروں کے لیے امن کا پیغام بنیں اور امتِ واحدہ کے پلیٹ فارم سے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کریں۔
